Blog

تحریر

فاروق شائق

ذوالقرنین کون تھے اس حوالے سے تاریخ میں تین لوگوں کو کہا جاتا ہے جن میں سائرس، جن کو کوروش اعظم کہا جاتا ہے، دوسرا الیگزینڈر جسے سکندر اعظم کہا جاتا ہے اور تیسرے جناب حضرت سلیمان علیہ السلام کو بھی کہا جاتا ہے یہاں اس وقت صرف سائرس اور سکندر کے بارے میں بیان کروں گا
بہت سی تفاسیر میں زیادہ تر سائرس یعنی کوروش اعظم کو ہی ذوالقرنین کہا گیا ہے میں یہاں قرآن اور تفاسیر اور تاریخ کے حوالے سے سائرس کی زندگی پر روشنی ڈالتا ہوں،

وَ یَسۡئَلُوۡنَکَ عَنۡ ذِی الۡقَرۡنَیۡنِ ؕ قُلۡ سَاَتۡلُوۡا عَلَیۡکُمۡ مِّنۡہُ ذِکۡرًا ﴿ؕ83 سورۃ الکھف
ترجمعہ ۔۔
اور یہ لوگ آپ سے ذوالقرنین کے بارے میں پوچھتے ہیں ۔ کہہ دو کہ میں ان کا کچھ حال تمہیں پڑھ کر سناتا ہوں ۔
تفسیر ابن کثیر
کفار کے سوالات کے جوابات ۔ پہلے گزر چکا ہے کہ کفار مکہ نے اہل کتاب سے کہلوایا تھا کہ ہمیں کچھ ایسی باتیں بتلاؤ جو ہم محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سے دریافت کریں اور ان کے جواب آپ سے نہ بن پڑیں ۔ تو انہوں نے سکھایا تھا کہ ایک تو ان سے اس شخص کا واقعہ پوچھو جس نے روئے زمین کی سیاحت کی تھی ۔ دوسرا سوال ان سے ان نوجوانوں کی بہ نسبت کرو جو بالکل لا پتہ ہوگئے ہیں اور تیسرا سوال ان سے روح کی بابت کرو ۔ ان کے ان سوالوں کے جواب میں یہ سورت نازل ہوئی ۔ یہ بھی روایت ہے کہ یہودیوں کی ایک جماعت حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ذوالقرنین کا قصہ دریافت کرنے کو آئی تھی ۔ تو آپ نے انہیں دیکھتے ہی فرمایا کہ تم اس لئے آئے ہو ۔ پھر آپ نے وہ واقعہ بیان فرمایا ۔ اس میں ہے کہ وہ ایک رومی نوجوان تھا اسی نے اسکندریہ بنایا ۔ اسے ایک فرشتہ آسمان تک چڑھالے گیا تھا اور دیوار تک لے گیا تھا اس نے کچھ لوگوں کو دیکھا جن کے منہ کتوں جیسے تھے وغیرہ ۔ لیکن اس میں بہت طول ہے اور بیکار ہے اور ضعف ہے اس کا مرفوع ہونا ثابت نہیں ۔ دراصل یہ بنی اسرائیل کی روایات ہیں ۔ تعجب ہے کہ امام ابو زرعہ رازی جیسے علامہ زماں نے اسے اپنی کتاب دلائل نبوت میں مکمل وارد کیا ہے ۔ فی الواقع یہ ان جیسے بزرگ سے تو تعجب خیز چیز ہی ہے ۔ اس میں جو ہے کہ یہ رومی تھا یہ بھی ٹھیک نہیں ۔ اسکندر ثانی البتہ رومی تھا وہ قیلیس مفذونی کا لڑکا ہے جس سے روم کی تاریخ شروع ہوتی ہے اور سکندر اول تو بقول ازرقی وغیرہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانے میں تھا ۔ اس نے آپ کے ساتھ بیت اللہ شریف کی بنا کے بعد طواف بیت اللہ کیا ہے ۔ آپ پر ایمان لایا تھا ، آپ کا تابعدار بنا تھا ۔ انہی کے وزیر حضرت خضر علیہ السلام تھے ۔ اور سکندر ثانی کا وزیر ارسطاطالیس مشہور فلسفی تھا واللہ اعلم ۔ اسی نے مملکت روم کی تاریخ لکھی یہ حضرت میسح علیہ السلام سے تقریبا تین سو سال پہلے تھا اور سکندر اول جس کا ذکر قرآن کریم میں ہے یہ حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے زمانے میں تھا جیسے کہ ازرقی وغیرہ نے ذکر کیا ہے ۔ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بیت اللہ بنایا تو اس نے آپ کے ساتھ طواف کیا تھا اور اللہ کے نام بہت سی قربانیاں کی تھیں ۔ ہم نے اللہ کے فضل سے ان کے بہت سے واقعات اپنی کتاب البدایہ والنہایہ میں ذکر کر دیے ہیں ۔ وہب کہتے ہیں یہ بادشاہ تھے چونکہ ان کے سر کے دونوں طرف تانبا رہتا تھا اس لئے انہیں ذوالقرنین کہا گیا یہ وجہ بھی بتلائی گئی ہے کہ یہ روم کا اور فارس کا دونوں کا بادشاہ تھا ۔ بعض کا قول ہے کہ فی الواقع اس کے سر کے دونوں طرف کچھ سنیگ سے تھے ۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں اس نام کی وجہ یہ ہے کہ یہ اللہ کے نیک بندے تھے اپنی قوم کو اللہ کی طرف بلایایہ لوگ مخالف ہوگئے اور ان کے سر کے ایک جانب اس قدر مارا کہ یہ شہید ہوگئے ۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں دوبارہ زندہ کر دیا قوم نے پھر سر کے دوسری طرف اسی قدر مارا جس سے یہ پھر مر گئے اس لئے انہیں ذوالقرنین کہا جاتا ہے ۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ چونکہ یہ مشرق سے مغرب کی طرف سیاحت کر آئے تھے اس لیے انہیں ذوالقرنین کہا گیا ہے ۔ ہم نے اسے بڑی سلطنت دے رکھی تھی ۔ ساتھ ہی قوت لشکر آلات حرب سب کچھ ہی دے رکھا تھا ۔ مشرق سے مغرب تک اس کی سلطنت تھی عرب عجم سب اس کے ماتحت تھے ۔ ہر چیز کا اسے علم دے رکھا تھا ۔ زمین کے ادنی اعلیٰ نشانات بتلا دیے تھے ۔ تمام زبانیں جانتے تھے ۔ جس قوم سے لڑائی ہوتی اس کی زبان بول لیتے تھے ایک مرتبہ حضرت کعب احبار رحمۃ اللہ علیہ سے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا تھا کیا تم کہتے ہو کہ ذوالقرنین نے اپنے گھوڑے ثریا سے باندھے تھے ۔ انہوں نے جواب دیا کہ اگر آپ یہ فرماتے ہیں تو سنئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ہم نے اسے ہر چیز کا سامان دیا تھا ۔ حقیقت میں اس بات میں حق حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ ہے اس لئے بھی کہ حضرت کعب رحمۃ اللہ علیہ کو جو کچھ کہیں لکھا ملتا تھا روایت کر دیا کرتے تھے گو وہ جھوٹ ہی ہو ۔ اسی لئے آپ نے فرمایا ہے کہ کعب کا کذب تو با رہا سامنے آچکا ہے یعنی خود تو جھوٹ نہیں گھڑتے تھے لیکن جو روایت ملتی گو بےسند ہو بیان کرنے سے نہ چوکتے ۔ اور یہ ظاہر ہے کہ بنی اسرائیل کی روایات جھوٹ ، خرافات ، تحریف ، تبدیلی سے محفوظ نہ تھیں ۔ بات یہ ہے کہ ہمیں ان اسرائیلی روایت کی طرف التفات کرنے کی بھی کیا ضرورت ؟ جب کہ ہمارے ہاتھوں میں اللہ کی کتاب اور اس کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی اور صحیح احادیث موجود ہیں ۔ افسوس انہیں بنی اسرائیلی روایات نے بہت سی برائی مسلمانوں میں ڈال دی اور فساد پھیل گیا ۔ حضرت کعب رحمۃ اللہ علیہ نے اس بنی اسرائیل کی روایت کے ثبوت میں قرآن کی اس آیت کا آخری حصہ جو پیش کیا ہے یہ بھی کچھ ٹھیک نہیں کیونکہ یہ تو بالکل ظاہربات ہے کہ کسی انسان کو اللہ تعالیٰ نے آسمانوں پر اور ثریا پر پہنچنے کی طاقت نہی دی ۔ دیکھئے بلقیس کے حق میں بھی قرآن نے یہی الفاظ کہے ہیں ( وَاُوْتِيَتْ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ وَّ لَهَا عَرْشٌ عَظِيْمٌ 23؁ ) 27- النمل:23 ) وہ ہر چیز دی گئی تھی اس سے بھی مراد صرف اسی قدر ہے کہ بادشاہوں کے ہاں عموما جو ہوتا ہے وہ سب اس کے پاس بھی تھا اسی طرح حضرت ذوالقرنین کو اللہ نے تمام راستے اور ذرائع مہیا کر دیے تھے کہ وہ اپنی فتوحات کو وسعت دیتے جائیں اور زمین سرکشوں اور کافروں سے خالی کراتے جائیں اور اس کی توحید کے ساتھ موحدین کی بادشاہت دنیا پر پھیلائیں اور اللہ والوں کی حکومت جمائیں ان کاموں میں جن اسباب کی ضرورت پڑتی ہے وہ سب رب عزوجل نے حضرت ذوالقرنین کو دے رکھے تھے واللہ اعلم ۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا جاتا ہے کہ یہ مشرق ومغرب تک کیسے پہنچ گئے ؟ آپ نے فرمایا سبحان اللہ ۔ اللہ تعالیٰ نے بادلوں کو ان کے لئے مسخر کر دیا تھا اور تمام اسباب انہیں مہیا کر دیے تھے اور پوری قوت وطاقت دے دی تھی
۔
اور اب یہاں تفسیر مودودی صاحب اور مفتی تقی عثمانی صاحب کی تفاسیر کے حوالے سے روشنی ڈالتا ہوں
سورة الْكَهْف حاشیہ نمبر :61 وَیَسْئَلُوْنَکَ عَنْ ذِی الْقَرْنَیْنِ کا عطف لا محالہ پچھلے قصے ہی پر ہے ۔ اس سے خود بخود یہ اشارہ نکلتا ہے کہ قصۂ موسیٰ و خضر بھی لوگوں کے سوال ہی کے جواب میں سنایا گیا ہے اور یہ بات ہمارے اس قیاس کی تائید کرتی ہے کہ اس سورے کے یہ تینوں اہم قصے دراصل کفار مکہ نے اہل کتاب کے مشورے سے امتحاناً دریافت کیے تھے ۔ سورة الْكَهْف حاشیہ نمبر :62 یہ مسئلہ قدیم زمانے سے اب تک مختلف فیہ رہا ہے کہ یہ ذوالقرنین جس کا یہاں ذکر ہو رہا ہے ، کون تھا ۔ قدیم زمانے میں بالعموم مفسرین کا میلان سکندر کی طرف تھا ، لیکن قرآن میں اس کی جو صفات و خصوصیات بیان کی گئی ہیں وہ مشکل ہی سے سکندر پر چسپاں ہوتی ہیں ۔ جدید زمانے میں تاریخی معلومات کی بنا پر مفسرین کا میلان زیادہ تر ایران کے فرماں روا خورس ( خسرو یا سائرس ) کی طرف ہے ، اور یہ نسبۃً زیادہ قرین قیاس ہے ، مگر بہرحال ابھی تک یقین کے ساتھ کسی شخصیت کو اس کا مصداق نہیں ٹھیرایا جا سکتا ۔ قرآن مجید جس طرح اس کا ذکر کرتا ہے اس سے ہم کو چار باتیں وضاحت کے ساتھ معلوم ہوتی ہیں : 1 ) ۔ اس کا لقب ذو القرنین ( لغوی معنی دو سینگوں والا ) کم از کم یہودیوں میں ، جن کے اشارے سے کفار مکہ نے اس کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے سوال کیا تھا ، ضرور معروف ہونا چاہیے ۔ اس لیے لا محالہ ہمیں یہ معلوم کرنے کے لیے اسرائیلی لٹریچر کی طرف رجوع کرنا پڑے گا کہ وہ دو سینگوں والے کی حیثیت سے کس شخصیت یا سلطنت کو جانتے تھے ۔ 2 ) ۔ وہ ضرور کوئی بڑا فرمانروا اور فاتح ہونا چاہیے جس کی فتوحات مشرق سے مغرب تک پہنچی ہوں ، اور تیسری جانب شمال یا جنوب میں بھی وسیع ہوئی ہوں ۔ ایسی شخصیتیں نزول قرآن سے پہلے چند ہی گزری ہیں اور لامحالہ انہی میں سے کسی میں اس کی دوسری خصوصیات ہمیں تلاش کرنی ہوں گی ۔ 3 ) ۔ اس کا مصداق ضرور کوئی ایسا فرمانروا ہونا چاہیے جس نے اپنی مملکت کو یاجوج و ماجوج کے حملوں سے بچانے کے لیے کسی پہاڑی درے پر ایک مستحکم دیوار بنائی ہو ۔ اس علامت کی تحقیق کے لیے ہمیں یہ بھی معلوم کرنا ہوگا کہ یاجوج و ماجوج سے مراد کونسی قومیں ہیں ، اور پھر یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ان کے علاقے سے متصل کونسی ایسی دیوار کبھی دنیا میں بنائی گئی ہے اور وہ کس نے بنائی ہے ۔ 4 ) ۔ اس میں مذکورہ بالا خصوصیات کے ساتھ ایک یہ خصوصیت بھی پائی جانی چاہیے کہ وہ خدا پرست اور عادل فرمانروا ہو ، کیونکہ قرآن یہاں سب سے بڑھ کر اس کی اسی خصوصیت کو نمایاں کرتا ہے ۔ ان میں سے پہلی علامت آسانی کے ساتھ خورس پر چسپاں کی جا سکتی ہے ، کیونکہ بائیبل کے صحیفہ دانی ایل میں دانیال نبی کا جو خواب بیان کیا گیا ہے اس میں وہ یونانیوں کے عروج سے قبل میڈیا اور فارس کی متحدہ سلطنت کو ایک منڈھے کی شکل میں دیکھتے ہیں جس کے دو سینگ تھے ۔ یہودیوں میں اس دو سینگوں والے کا بڑا چرچا تھا کیونکہ اسی کی ٹکر نے آخر کار بابل کی سلطنت کو پاش پاش کیا اور بنی اسرائیل کو اسیری سے نجات دلائی ( تفہیم القرآن سورہ بنی اسرائیل ، حاشیہ 8 ) دوسری علامت بڑی حد تک اس پر چسپاں ہوتی ہے ، مگر پوری طرح نہیں ۔ اس کی فتوحات بلا شبہ یہ مغرب میں ایشیائے کوچک اور شام کے سواحل تک اور مشرق میں با ختر ( بلخ ) تک وسیع ہوئیں ، مگر شمال یا جنوب میں اس کی کسی بڑی مہم کا سراغ ابھی تک تاریخ سے نہیں ملا ہے ، حالانکہ قرآن صراحت کے ساتھ ایک تیسری مہم کا بھی ذکر کرتا ہے ، تاہم اس مہم کا پیش آنا بعید از قیاس نہیں ہے ، کیونکہ تاریخ کی رو سے خورس کی سلطنت شمال میں کا کیشیا ( قفقاز ) تک وسیع تھی ۔ تیسری علامت کے بارے میں یہ تو قریب قریب متحقق ہے کہ یاجوج و ماجوج سے مراد روس اور شمالی چین کے وہ قبائل ہیں جو تاتاری منگولی ، ھُن اور سیتھین وغیرہ ناموں سے مشہور ہیں اور قدیم زمانے سے متمدن ممالک پر حملے کرتے رہے ہیں ۔ نیز یہ بھی معلوم ہے کہ ان کے حملوں سے بچنے کے لیے قفقاز کے جنوبی علاقے میں دربند اور دار بال کے استحکامات تعمیر کیے گئے تھے ۔ لیکن یہ ابھی تک ثابت نہیں ہو سکا ہے کہ خوس ہی نے یہ استحکامات تعمیر کیے تھے ۔ آخری علامت قدیم زمانے کے معروف فاتحوں میں اگر کسی پر چسپاں کی جاسکتی ہے تو وہ خورس ہی ہے ۔ کیونکہ اس کے دشمنوں تک نے اس کے عدل کی تعریف کی ہے اور بائیبل کی کتاب عزْرا اس بات پر شاہد ہے کہ وہ ضرور ایک خدا پرست اور خدا ترس بادشاہ تھا جس نے بنی اسرائیل کو ان کی خدا پرستی ہی کی بنا پر بابل کی اسیری سے رہا کیا اور اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کے لیے بیت المقدس میں دوبارہ ہیکل سلیمانی کی تعمیر کا حکم دیا ۔ اس بنا پر ہم یہ تو ضرور تسلیم کرتے ہیں کہ نزول قرآن سے پہلے جتنے مشہور فاتحین عالم گزرے ہیں ان میں سے خورس ہی کے اندر ذو القرنین کی علامات زیادہ پائی جاتی ہیں ، لیکن تعین کے ساتھ اسی کو ذو القرنین قرار دے دینے کے لیے ابھی مزید شہادتوں کی ضرورت ہے ۔ تاہم دوسرا کوئی فاتح قرآن کی بتائی ہوئی علامات کا اتنا بھی مصداق نہیں ہے جتنا خورس ہے ۔ تاریخی بیان کے لیے صرف اتنا ذکر کافی ہے کہ خورس ایک ایرانی فرمانروا تھا جس کا عروج 549 ق ۔ م ۔ کے قریب زمانے میں شروع ہوا ۔ اس نے چند سال کے عرصے میں میڈیا ( الجبال ) اور لیڈیا ( یشیائے کوچک ) کی سلطنتوں کو مسخر کرنے کے بعد 539 ق ، م ، میں بابل کو بھی فتح کر لیا جس کے بعد کوئی طاقت اس کے راستہ میں مزاحم نہیں رہی ۔ اس کی فتوحات کا سلسلہ سندھ اور صُغد ( موجودہ ترکستان ) سے لے کر ایک طرف مصر اور لیبیا تک ، اور دوسری طرف تھریس اور مقدونیہ تک وسیع ہوگیا اور شمال میں اس کی سلطنت قفقاز ( کاکیشیا ) اور خوار زم تک پھیل گئی ۔ عملاً اس وقت کی پوری مہذب دنیا اس کی تابع فرمان تھی
تفسیر ابن موددی

: اس سورت کے تعارف میں گزرچکا ہے کہ مشرکین نے حضور سرور دو عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے تین سوالات کئے تھے، ان میں سے ایک سوال یہ تھا کہ اس شخص کا حال بتائیں جس نے مشرق سے مغرب تک پوری دنیا کا سفر کیا تھا، یہاں سے اس سوال کا جواب دیا جارہا ہے، قرآن کریم نے بتایا ہے کہ اس شخص کا نام ذوالقرنین تھا، ذوالقرنین کے لفظی معنی ہیں دو سینگوں والا، یہ کسی نا معلوم وجہ سے ایک بادشاہ کا لقب تھا، قرآن کریم نے اس بادشاہ کی تفصیلات نہیں بتائیں کہ وہ کون تھا اور کس زمانے میں تھا البتہ ہمارے زمانے کے بیشتر محققین کا رجحان یہ ہے کہ وہ ایران کا بادشاہ سائرس تھا، جس نے بنی اسرائیل کو بابل کی جلا وطنی سے نجات دلاکر انہیں دوبارہ فلسطین میں آباد کیا تھا، قرآن کریم نے اتنا بتایا ہے کہ انہوں نے تین لمبے سفر کئے تھے، پہلا دنیا کی انتہائی مغربی آبادی تک، دوسرا انتہائی مشرقی آبادی تک، اور تیسرا انتہائی شمالی علاقے تک، جہاں انہوں نے یاجوج ماجوج کے وحشیانہ حملوں سے لوگوں کو بچانے کے لئے ایک دیوار تعمیر کی تھی
تفسیر مولانا تقی عثمانی

سائرس کی تاریخ

کوروش اعظم جو سائرس اعظم کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، قدیم ایران کا ایک عظیم بادشاہ تھا۔ اس نے ایران میںہخامنشی سلطنت کی بنیاد رکھی۔ اس کی قیادت میںایران نے جنوب مغربی ایشیا، وسطی ایشیا، یورپ کے کچھ علاقے اور کوہ قاف فتح کیا۔ مغرب میں بحیرہ روم اور در دانیال سے لیکر مشرق میں ہندوکش تک کا علاقہ فتح کرکے سائرس نے اس وقت تک کی تاریخ کی عظیم ترین سلطنت قائم کی۔ سائرس کو یہودیت میں بھی احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے کیونکہ اس نے بابل فتح کرکے یہودیوں کو آزاد کر دیا تھا جو اس وقت سلطنت بابل کے غلام تھے
دانیال علیہ السلام کا خواب ۔
یہودیوں کے بابل کے اسیری کے زمانے میں حضرت دانیال کا ظہور ہوا- جو اپنے علم و حکمت کی بنا پر شاہان بابلکے دربار میں مقرب ہو گئے تھے-جبکہ اگر تورات کی تعلیمات تسلیم کی جائیں تو سائرس سے لیکر آرٹازرکیسز(ارتخششت)اول تک تمام شہنشاہان پارس بنی اسرائیل سے عقیدت رکھتے تھے-شاہ بابل کے تیسرے برس انہوں نے خواب دیکھا جو کتاب دانیال میں ہے

“میں دیکھتا ہوں کہ ندی کے کنارے مینڈھا کھڑا ہے- جس کے دو سینگ اونچے ہیں-لیکن ایک دوسرے سے زیادہ اونچا تھااور بڑا دوسرے کے پیچھے تھا- میں نے دیکھا کہ پچھم اترا اوردکھن کی طرف سینگ مارتا ہے-یہاں تک کہ کوئی جانور اس کے سامنے کھڑا نہ رہ سکا-اور وہ بہت بڑا ہو گیا- یہ بات سوچ ہی رہا تھا کہپچھم کی طرف سے ایک بکرا آکر تمام روئے زمین پر پھر گیا-اس بکرے کے آگے عجیب طرح کا سینگ تھا-وہ دو سینگوں والے مینڈھے پر خوب بھڑکااسکے دونوں سینگ توڑ ڈالے اور اس کی ہمت نہ تھی کہ مقابلہ کرے”

پھر اس کے بعد ہے کہ جبریل آئے اوربتایا کہ دو سینگوں والا مینڈھا فارس کی بادشاہت ہے اور بکرا یونان کی اس کا سینگ اس کا پہلا بادشاہ ہے-

چنانچہ یہ بادشاہ بعد میں سکندر مقدونی ٹھرا-جبکہ دو سینگ میڈیا (مدین) اور فارس کی سلطنتیں تھیں-چنانچہ یہودیوں کے یہاں فارس کے بادشاہ کے لیے کورش( ذوالقرنین ) کا تصورپیدا ہو گیا تھا-یہ صرف یہودی تخیل نہ تھا بلکہ خود فارس کے بادشاہ کا مجوزہ اور پسندیدہ نام ذوالقرنین تھا-یہ سائرس کورش کا سنگی تمثال ہے جو پاسارگاد (ایران) کے کھنڈروں میں دستیاب ہوا-
سکندر اعظم کو ذوالقرنین کیوں کہا گیا
بہت سے قدیم علما اور مفکر سکندر اعظم کو ہی ذوالقرنین مانتے ہیں۔ مگر بہت سے اس کا انکار کرتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ سکندر اعظم نبی نہیں تھا۔ دوسری وجہ یہ کہ وہ زمین کی مشرقین اور مغربین تک نہ پہنچ سکا۔
مگر ایک محقق جناب محمد اکبر صاحب نے ذوالقرنین جناب حضرت سلیمان علیہ السلام کو کہا ہے اس کے حوالے سے انشاءاللہ اگلی بار تفصیل سے لکھوں گا

حوالہجات
اصحاب کہف اور یاجوج ماجوج از مولانا ابوالکلام آزاد صفحہ ٣٦ فوٹنوٹ
ڈاکٹر معین الدین۔ قدیم مشرق جلد دوم )

تحریر فاروق شائق
سانگو

Advertisements

امید سحر (مسجد، امام، نمازی)

پاکستان میں جب اپنے محلے کی جامعہ مسجد میں چار(4) سال بعد نماز پڑھنے کا شرف حاصل ہوا ۔جب دیکھا تو دل تھوڑا پریشان ہوا اور ایک جھٹکا سا محسوس ہوا جیسے چھوڑ کر گیا ویسا ہی ملا، کچھ تبدیلی دیکھنے کو ملی تو وہ یہ تھی کہ مسجد کی دیواروں پر دیدہ زیب ماربل لگا ہوا تھا۔جس پر اللہ رب العزت کے نام مبارک اور سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام مبارک کنندہ تھے ۔مگر جس وجہ سے پریشان ہوا اور دل کو ایک جٹھکاسا لگا وہ یہ تھا کہ جو نمازی چار سال پہلے تھے چار سال بعد آج بھی وہی نمازی تھے تعداد اتنی ہی تھی یعنی کہ 15 کے لگ بھگ صرف یہ ضرور تھا کہ کچھ پرانے چہرے گم ہو گئے تھے، جہان فانی سے رخصت ہو چکے تھے، ان کی جگہ کچھ نئے چہروں نے لے لی تھی البتہ تعداد اتنی ہی تھی(15)، ان 15میں بھی زیادہ تر بوڑھےبزرگوں کی تعداد تھی، جوان نسل بہت کم بلکے نہ ہونے کے برابر تھے،نماز کے بعد کچھ دیر سوچتا رہا کہ میرے اس چھوٹے سے گاؤں میں کم از کم 78 ووٹ تحریک لبیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نمائندہ جماعت کے تھے، تو میری اس مسجد میں کم و بیش 50 سے 60 نمازی تو ہونے چاہیے تھے مگر تعداد تو اتنی ہی تھی جتنی چھوڑ گیا تھا یعنی 15
تو بہت دیر تک یہی سوچتا رہا کہ قصور کس کا ہے
امام کا، لوگوں کا،والدین کا یا دین کی نمائندہ جماعتوں کا ووٹ کے لیے لوگوں کو تو نکال لیا، دھرنوں کے لیے لوگ نکل آئے مگر مسجدوں میں لوگوں کی تعداد کیوں کم ہو گئی یا تقریباً اتنی ہی رہی، کہا کمی ہے
دین کی تبلیغ کی یا ہم میں شعور کی، دین کی تعلیم کی، یا، دین کی تعلیم دینے والوں کی یا دین کی تربیت کرنے والے والدین یا استاد کی یا دین کی نمائندہ جماعتوں کی جو لوگوں کو دین کے نام پر گھروں سے باہر سڑکوں پر دھرنوں میں لے آئی مگر مسجدوں میں نہ لا سکی۔
تو پھر میں سوچتا ہوں کہ قصور کس کا گردانہ جائے
مسجدوں کو دیدہ زیب سے دیدہ زیب تر، ایک دوسرے سے بڑھکر اور برقی قمقموں کی سجاوٹ خوب تر سےخوبصورت ،نقاشی کے عمدہ نمونوں سے آراستہ، رنگ وروغن کے چار چاند لگاتے جا رہے ہیں مگر ہم لوگوں کے دلوں کو دین سے منور نہیں کر پا رہے ،لوگوں کی اور اپنی اگلی نسل کی تربیت دین پر نہیں کر پا رہے ۔یہاں تک کہ ہم نے مسجدوں کو بانٹ لیا ہے۔ محلوں کی مسجد، تیری میری مسجد، برادریوں کی مسجد، مسلک کی مسجد جبکہ
ہمیں حکم ہے کہ مسجدیں اللہ کا گھر ہیں مگر ہم مسجدیں بانٹ رہیں ہیں ہمیں حکم ہے ایک امام کی پیروی کرنے کا مگر ہم امام بانٹ رہے ہیں،ہمیں حکم ہے کہ آپس میں اتفاق،اتحاد سے رہنے کا مگر ہم تو نمازی ہی بانٹ رہیں ہیں،
ہمیں حکم ہے اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنے کا مگر ہم دین بانٹ رہیں ہیں ،ہمیں حکم ہے محبت بانٹنے کا مگر ہم نفرتیں بانٹ رہیں ہیں،ہمیں حکم ہے دلوں میں چاہت پیدہ کرنے کا مگر ہم دلوں میں کدروت پیدہ کر رہیں ہیں ۔ہمیں حکم ہے مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں مگرہم دین کے نام پر بھائی بھائی بانٹ رہیں ہیں ۔ہمیں حکم ہے مل جل کر رہنے کا، مگر ہم آپس کا سکون بانٹ رہیں ہیں،ہم ایک دوسرے کی بات کو سننے جاننے کے لیے تیار نہیں،ہم خود کو دوسرے سے برتر سمجھنے کی کوششوں میں کوشاں ہیں ۔ہم میں برداشت ختم ہو چکی ہے ۔ہم دین کی بات کو پہلی بات سننے کے لیے تیار نہیں اگر سن لیں تو عمل کے لیے تیار نہیں،مفل میلاد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کتنے بڑے بڑے اجتماعات ہوتے ہیں کتنے لوگ ہوتے ہیں کہ اگر مسجد میں ہو تو جگہ کم پڑ جاتی ہے اگر مسجد سے باہر پنڈال سجایا جائے تو تاحد نگاہ لوگ ہی لوگ نظر آتے ہیں، مگر عام روٹین میں مسجد میں لوگ کم کیوں رہ جاتے ہیں ۔
میری سوچ کا محور رکنے کا نام نہیں لیتا، میری سوچ کا محورگھوم پھر کر اسی جگہ اٹک جاتا ہے کہ کس کا قصور ہے، قصور دیکھنے بیٹھوں تو سب کاہی حصہ نظر آتا ہے۔ میرا ،آپ کا ،سب کا۔
ہم پریشان حال ہیں۔طرح طرح کی مصیبتوں میں گھرے ہوئے ہیں، ظلم کی چکی میں پیستے جا رہیں ہیں، اور جب تک ہم اپنی زندگی کو ڈھنگ سے نہیں گزاریں گے اسلام کے اصولوں کو نہیں اپنائیں گے، ہم یونہی دربدر،میصبتوں بھری غلامی کی زندگی گزارتے رہیں گے ۔
ابھی بھی وقت ہے خود کو سنبھالنے کا،ابھی بھی وقت ہے خود کو اپنی منزل کی طرف لیکر جانے کا.
ابھی وقت ہے اپنے رستے کے تعین کا ،
محمد فاروق شائق
سانگو

غزل کے چند اشعار

میری غزل سے چند اشعار آپ سب احباب کی نذر

تم اداس کیوں ہو اے دل بتا جانا
یہ جرم تھا کوچہ جاناں تیرا جانا

مدت ہوئی ہے لب کشائی نہیں کی
تم کبھی خاموش لبوں کو ہلا جانا

مدت ہوئی میری سماعت نے سنا نہیں
کبھی آنا مجھے سوز و گداز سنا جانا

فاروق شائق