Blog

امید سحر (مسجد، امام، نمازی)

پاکستان میں جب اپنے محلے کی جامعہ مسجد میں چار(4) سال بعد نماز پڑھنے کا شرف حاصل ہوا ۔جب دیکھا تو دل تھوڑا پریشان ہوا اور ایک جھٹکا سا محسوس ہوا جیسے چھوڑ کر گیا ویسا ہی ملا، کچھ تبدیلی دیکھنے کو ملی تو وہ یہ تھی کہ مسجد کی دیواروں پر دیدہ زیب ماربل لگا ہوا تھا۔جس پر اللہ رب العزت کے نام مبارک اور سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام مبارک کنندہ تھے ۔مگر جس وجہ سے پریشان ہوا اور دل کو ایک جٹھکاسا لگا وہ یہ تھا کہ جو نمازی چار سال پہلے تھے چار سال بعد آج بھی وہی نمازی تھے تعداد اتنی ہی تھی یعنی کہ 15 کے لگ بھگ صرف یہ ضرور تھا کہ کچھ پرانے چہرے گم ہو گئے تھے، جہان فانی سے رخصت ہو چکے تھے، ان کی جگہ کچھ نئے چہروں نے لے لی تھی البتہ تعداد اتنی ہی تھی(15)، ان 15میں بھی زیادہ تر بوڑھےبزرگوں کی تعداد تھی، جوان نسل بہت کم بلکے نہ ہونے کے برابر تھے،نماز کے بعد کچھ دیر سوچتا رہا کہ میرے اس چھوٹے سے گاؤں میں کم از کم 78 ووٹ تحریک لبیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نمائندہ جماعت کے تھے، تو میری اس مسجد میں کم و بیش 50 سے 60 نمازی تو ہونے چاہیے تھے مگر تعداد تو اتنی ہی تھی جتنی چھوڑ گیا تھا یعنی 15
تو بہت دیر تک یہی سوچتا رہا کہ قصور کس کا ہے
امام کا، لوگوں کا،والدین کا یا دین کی نمائندہ جماعتوں کا ووٹ کے لیے لوگوں کو تو نکال لیا، دھرنوں کے لیے لوگ نکل آئے مگر مسجدوں میں لوگوں کی تعداد کیوں کم ہو گئی یا تقریباً اتنی ہی رہی، کہا کمی ہے
دین کی تبلیغ کی یا ہم میں شعور کی، دین کی تعلیم کی، یا، دین کی تعلیم دینے والوں کی یا دین کی تربیت کرنے والے والدین یا استاد کی یا دین کی نمائندہ جماعتوں کی جو لوگوں کو دین کے نام پر گھروں سے باہر سڑکوں پر دھرنوں میں لے آئی مگر مسجدوں میں نہ لا سکی۔
تو پھر میں سوچتا ہوں کہ قصور کس کا گردانہ جائے
مسجدوں کو دیدہ زیب سے دیدہ زیب تر، ایک دوسرے سے بڑھکر اور برقی قمقموں کی سجاوٹ خوب تر سےخوبصورت ،نقاشی کے عمدہ نمونوں سے آراستہ، رنگ وروغن کے چار چاند لگاتے جا رہے ہیں مگر ہم لوگوں کے دلوں کو دین سے منور نہیں کر پا رہے ،لوگوں کی اور اپنی اگلی نسل کی تربیت دین پر نہیں کر پا رہے ۔یہاں تک کہ ہم نے مسجدوں کو بانٹ لیا ہے۔ محلوں کی مسجد، تیری میری مسجد، برادریوں کی مسجد، مسلک کی مسجد جبکہ
ہمیں حکم ہے کہ مسجدیں اللہ کا گھر ہیں مگر ہم مسجدیں بانٹ رہیں ہیں ہمیں حکم ہے ایک امام کی پیروی کرنے کا مگر ہم امام بانٹ رہے ہیں،ہمیں حکم ہے کہ آپس میں اتفاق،اتحاد سے رہنے کا مگر ہم تو نمازی ہی بانٹ رہیں ہیں،
ہمیں حکم ہے اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنے کا مگر ہم دین بانٹ رہیں ہیں ،ہمیں حکم ہے محبت بانٹنے کا مگر ہم نفرتیں بانٹ رہیں ہیں،ہمیں حکم ہے دلوں میں چاہت پیدہ کرنے کا مگر ہم دلوں میں کدروت پیدہ کر رہیں ہیں ۔ہمیں حکم ہے مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں مگرہم دین کے نام پر بھائی بھائی بانٹ رہیں ہیں ۔ہمیں حکم ہے مل جل کر رہنے کا، مگر ہم آپس کا سکون بانٹ رہیں ہیں،ہم ایک دوسرے کی بات کو سننے جاننے کے لیے تیار نہیں،ہم خود کو دوسرے سے برتر سمجھنے کی کوششوں میں کوشاں ہیں ۔ہم میں برداشت ختم ہو چکی ہے ۔ہم دین کی بات کو پہلی بات سننے کے لیے تیار نہیں اگر سن لیں تو عمل کے لیے تیار نہیں،مفل میلاد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کتنے بڑے بڑے اجتماعات ہوتے ہیں کتنے لوگ ہوتے ہیں کہ اگر مسجد میں ہو تو جگہ کم پڑ جاتی ہے اگر مسجد سے باہر پنڈال سجایا جائے تو تاحد نگاہ لوگ ہی لوگ نظر آتے ہیں، مگر عام روٹین میں مسجد میں لوگ کم کیوں رہ جاتے ہیں ۔
میری سوچ کا محور رکنے کا نام نہیں لیتا، میری سوچ کا محورگھوم پھر کر اسی جگہ اٹک جاتا ہے کہ کس کا قصور ہے، قصور دیکھنے بیٹھوں تو سب کاہی حصہ نظر آتا ہے۔ میرا ،آپ کا ،سب کا۔
ہم پریشان حال ہیں۔طرح طرح کی مصیبتوں میں گھرے ہوئے ہیں، ظلم کی چکی میں پیستے جا رہیں ہیں، اور جب تک ہم اپنی زندگی کو ڈھنگ سے نہیں گزاریں گے اسلام کے اصولوں کو نہیں اپنائیں گے، ہم یونہی دربدر،میصبتوں بھری غلامی کی زندگی گزارتے رہیں گے ۔
ابھی بھی وقت ہے خود کو سنبھالنے کا،ابھی بھی وقت ہے خود کو اپنی منزل کی طرف لیکر جانے کا.
ابھی وقت ہے اپنے رستے کے تعین کا ،
محمد فاروق شائق
سانگو
Advertisements

غزل کے چند اشعار

میری غزل سے چند اشعار آپ سب احباب کی نذر

تم اداس کیوں ہو اے دل بتا جانا
یہ جرم تھا کوچہ جاناں تیرا جانا

مدت ہوئی ہے لب کشائی نہیں کی
تم کبھی خاموش لبوں کو ہلا جانا

مدت ہوئی میری سماعت نے سنا نہیں
کبھی آنا مجھے سوز و گداز سنا جانا

فاروق شائق

کیسی آزادی؟ 

تخلیقات ایونٹ ” آزادی کی خاطر ” 

عنوان : کیسی آزادی

تحریر : محمد فاروق شائق سانگو

بینر : ثمرینہ علی
///////////////////////////

قریہ قریہ لہو سے سینچا، آزادی کی خاطر
پیش کر یں جانوں کا نذرانہ،آزادی کی خاطر 

جانوں کا ہماری کوئی مول نہیں ہے یہاں 

بچے بچے نے سر کٹایا، آزادی کی خاطر 

محمد فاروق شائق سانگو

آزادی کا اصل قصد کیا ہے؟؟

جب کہیں پر انسان کا جینا یا رہنا سہنا تنگ کر دیا جائے، دراصل آزادی تو اس وقت حاصل کی جاتی ہے جب آپ پر اس ملک میں یا اس جگہ عرصہ حیات تنگ کر دیا جائے، جب آپ کو مذہبی آزادی حاصل نہ ہو جب آپ کی عبادات میں خلل ڈالا جائے، تو پھر آزادی کے حصول کے لیے جدوجہد کرنی چاہیے ۔

لیکن دنیا میں آزادی کا مقصد اب زمین کا بٹوارہ، خود کی بادشاہی کو قائم رکھنے کے لیے بن چکا ہے ۔

اس وقت موجودہ صورت حال میں دنیا کے مختلف ایریامیں آزادی کی جنگیں چل رہی ہیں۔ 

آزادی کی جنگوں کا حال کتابوں سے نہیں کھلتا، اس میں خود کو جھونکنا پڑتا ہے. جب آزادی کا بلاوہ آتا ہے تو پھر لوگ سردھڑ کی بازی لگانے کے لیے نکلتے ہیں، جانوں کا نذرانہ دینے کے لیے نکلتے ہیں، خون کی ندیاں بہتی ہیں، لوگ کٹتے ہیں، گھر بار چھوڑنے پڑتے ہیں، مال وذر کو جھونکنا پڑتا ہے، بچوں، جوانوں بوڑھوں کو آزادی کی آگ میں جھونکنا پڑتا ہے، آرام و آسائشیں چھوڑنا پڑتی ہیں، اپنوں کو الوداع کرنا پڑتا ہے، اپنوں سے بچھڑنا پڑتا ہے، لاشیں بچھانی پڑتیں ہیں۔

اور جب مسلمانوں کی عبادات اور ان کے رہن سہن اور مسلمانوں کو کم تر نگاہوں سے دیکھا جانے لگے تو پھر آزادی فرض بن جاتی ہے ۔

اس وقت بہت سی جگہوں پر مسلمان آزادی کی جنگیں لڑ رہیں ہیں۔ کشمیر، اب برما، فلسطین، افریقہ میں بہت سی جگہیں ہیں، چیچنیا میں، کہاں کہاں آزادی کی جنگیں لڑ رہیں ، کیوں دنیا میں جہاں پر بھی دیکھ لیں مسلمانوں پر ہی عرصہ حیات تنگ کیا جا رہا ہے۔

اب ذرا تھوڑا سے پیچھے چلتے ہیں جو آزادی ہمارے بزرگوں نے حاصل کی، جس آزادی کے لیے ہمارے آباواجداد نے قربانیاں دیں۔۔۔۔ 

کیا لکھوں ؟؟

آزادی کی خاطر، کیا کیا دکھ سہے، کیا کیا ظلم سہے، مگر ابھی تک مکمل آزادی حاصل نہیں کر پائے۔

ہم کس آزادی کی بات کرتے ہیں؟؟؟

وہ جو دو حصوں میں بٹنے کا نام ہے۔۔۔ 

جبکہ ہم نے تو آزادی حاصل کرنی تھی نظریہ کی، مذہب کی، دین کی، تہذہب تمدن کی، مگر ہم نے صرف خطہ تو بانٹ لیا، زمین کا حصہ تو بانٹ لیا،حکومت بانٹ لی، انسان بانٹ لیے، گھر بانٹ لیے، جائیدادیں بانٹ لی، دل بانٹ لیے، غرض کہ سب کچھ بانٹ لیا، بس نہیں بانٹاتو انسان نے خود کی میں کو نہیں بانٹا، دل کی میل کو نہیں بانٹا۔

یہاں ایک بات کرتا چلوں برصیغر کو دو حصوں میں بانٹا ۔۔۔یہ آزادی حاصل تو کہنے کو کی اسلام کے لیے، مسلمانوں کے لیے، مگر ابھی بھی ہم دوحصوں میں ہی رے گئے ادھر بھی مسلمان، اُدھر بھی مسلمان پھر کس کی آزادی؟ کاہے کی آزادی ؟کس آزادی کی خاطر لڑ رہیں ہیں؟ 

ہمیں تو لیڈروں نے باتوں میں لا کر مروایا، کبھی دین پر لا کر بلیک میل کر لیا، کبھی کہا کہ گوروں کی تہذیب وتمدن کا اپنائے گے تو اسلام سے خارج، کبھی ان کی زبان سیکھی تو مسلمان نہیں ۔

کبھی کہا کہ ابھی ہم ادھر رہیں گے انہیں جا نے دے ،مگر وہ وقت کب آئے گا، جس کا خواب دیکھا گیا؟ جس کے سپنے بنے گئے؟ مسلمان تو ابھی بھی بٹے ہوئے ہیں پھر آزادی کس بات کی؟

ہمارے تو دوٹکڑے کر دیئے ان سیاسی لوگوں نے۔ 

خود کی خاطر کتنی جانوں کی قربانی دی ۔آج بھی سوچتا ہوں تو رونگھٹے گھڑے ہو جاتے، جب اسی طرح رہنا تھا تو آزادی کس لیے؟ کیوں؟ 

جب مسلمان ہی بٹنے تھے تو پھر آزادی کیوں کس لیے؟ جس آزادی کی خاطر ہمارے آباو اجداد نے قربانیاں دیں، کیا ان کی قربانیوں کا حق ادا کر دیا، کیا ان کی قربانیوں کا صلہ دیا، جس خون سے دھرتی کو سینچا گیا اس میں ہم نے وہ سپنے اگائے جو بونے کا سوچا تھا۔ 

ہم آج بھی آزاد ہیں مگر صرف نام کے۔

ہم ابھی بھی اس صلیب پر لٹکے ہوئے جس پر جسم کا ایک حصہ الگ اور دوسرا الگ کر دیا جائے۔

آزادی کیا ہوتی ہے؟

کسی بزرگ سے پوچھیں تو پتہ چلے کتنی خون کی ندیاں بہائی، کتنی جانیں قربان کر دیں اور جب ان سے پوچھا جائے کہ مقصد حاصل ہوا آزادی کا۔۔۔ تو پھر اُن کی آنکھوں میں ذرا جھانکیے تو ان آنکھوں میں آپ کو صحرا سی یاسیت نظر آئے گی، اُن کی آنکھیں اس کھنڈر سی ویران نظر آئیں گی کیسے موہن جودڑو کے کھنڈرات۔

بس اس آگے کیا لکھوں کہ ہم آج بھی اسی آزادی کی خاطر بچوں، بڑوں اور بزرگوں کی قربانیاں دیتے جا رہیں ہیں. اور پتہ نہیں کب تک یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔ 

آزادی کی جنگ کیا ہوتی ہے؟

پوچھنا ہے تو اپنے بزرگوں سے پوچھیے، کبھی پوچھنا ہے تو کبھی آپ روہنگیا کے مسلمانوں سے پوچھیے،،،،، آزادی کی خاطر کیا کیا لٹا دیا. لیکن کیا ان کی یہ قربانیاں کام آئیں، 

بس کچھ نہیں لکھنا اس سے آگے۔۔۔۔

اور شائد نہ لکھ پاؤں، آزادی کے معنی ہی بدل ڈالے ہیں ہم لوگوں نے ۔۔۔

آزادی کی خاطر نہ جانے کیا کیا کرنا پڑے مگر شائد آزادی مل جائے جب ہم قبر میں لیٹں، جب ہماری جان ہمارے جسم سے آزاد ہو گی ۔

ہم تو خود میں ہی ابھی تک قید میں ہیں۔ کیا کبھی سوچا خود سے آزاد ہوں؟ کبھی سوچا جن جھنجھٹوں میں پھنس گئے ہیں ان سے آزادی حاصل کریں ؟کبھی سوچا جن مصیبتوں میں پھنسے ہیں ان سے آزاد ہوں؟ جب ہم خود میں ہی قید ہیں ہم دوسروں کی کیا مدد کر پائیں گے، کیا اپنے بھائیوں کو آزادی دلوا سکیں گے؟

آزادی کا خواب تو خواب ہی ہے بس ملک حاصل کر لیا ۔۔۔